Thread Content
اس پوسٹ کو آخری بار cflt111 نے 2016-5-20 کو ساعت 11:57 پر ترمیم کیا۔ یاد رکھیں! نوزائیدہ بچے کے چھوٹے ہاتھوں کو جلد سے جلد کھول دینا چاہیے۔ ہر بچہ پیدا ہوتے ہی اپنے چھوٹے ہاتھوں کو مضبوطی سے بند رکھتا ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں، بہت سی مائیں شاید اس پر توجہ نہ دیں، لیکن بال روگ ماہرین لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ بچے کے بند ہوئے ہاتھوں کو جلد سے جلد کھولنا ضروری ہے۔ بچے کی چھوٹی ہتھیلیوں کو جلدی سے کیوں کھولنا ضروری ہے؟ 1- ہاتھوں کی حرکات، اعصابی نظام کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، اور بچے کی نفسیاتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 2۔ انگلیوں کو الگ کرنے کے بعد، بچہ جس چیز کو چاہے اسے ہاتھ لگا سکتا ہے؛ اس طرح بچہ خود سے مختلف سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے، اور اس کی حسی اور عملی سوچ کی صلاحیتیں ترقی کرتی ہیں۔ ۳- ہاتھوں کی حرکات کے ذریعہ، بچہ اور ماحول کے درمیان تعامل پیدا ہوتا ہے؛ اس سے بچے کو خود اور ماحول کے درمیان تعامل کا تصور قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ تعاملی تجربہ بچے کی آئندہ نشوونما کے لئے بہت اہم ہے۔ چھوٹے مُٹھیوں کو کیسے کھولا جائے؟ ماں کو کیا کرنا چاہیے؟ 1. روزمرہ کی زندگی میں بچے کی بند مُٹھیوں کو کھولنے پر توجہ دینی چاہیے؛ اس سے بچے کی انگلیاں آرام سے حرکت کر سکتی ہیں۔ نہانے کے وقت بچے کے چھوٹے ہاتھوں کو ضرور دھونا چاہیے۔ اپنی انگلیوں کے سرے کو بچے کی ہتھیلی میں آہستگی سے ڈالیں، پھر اس ہتھیلی کو آہستگی سے ادھر سے اُدھر گھماتے رہیں، صفائی کرتے وقت ہی مساج بھی کریں؛ دودھ پلاتے وقت بچے کو اپنے بازوؤں میں لے لیں، اپنی انگلیوں کو اس کی ہتھیلی میں ڈالیں، بڑے ہاتھ سے چھوٹی ہتھیلی کو آہستگی سے چھوئیں، آہستگی سے ہلائیں؛ بچے کی مُٹھیوں کو آہستگی سے سہلائیں، تاکہ اس کی چھوٹی ہتھیلیاں ماں کے سینے اور چہرے کو چھو سکیں؛ بچے سے مسلسل باتیں کرتے رہیں۔ ماں کا دودھ پیتے ہوئے، ماں کی جلد کی گرمی کو محسوس کرتے ہوئے، بچہ خوش اور آرام دہ محسوس کرتا ہے۔ ۲- بچے کی انگلیوں پر مساج کرنا: جب بچہ کافی کھا چکا ہو اور خوش مزاج ہو، تو اس کی چھوٹی ہتھیلیوں پر مساج کیا جاسکتا ہے۔ نرم ہاتھوں سے مساج کرنے سے بچے کے لمس کے احساسات متحرک ہوتے ہیں، جس سے بچہ ذہنی اور جسمانی طور پر پرسکون ہو جاتا ہے، اور اس کی چھوٹی مُٹھیاں بھی آسانی سے کھل جاتی ہیں۔ *بچے کی ہتھیلی کو پکڑیں، انگشت شہادت کو آہستگی سے الگ کریں، پھر تمام انگلیوں کو کھولیں اور بند کریں۔ اس عمل کے دوران باتیں کرتے رہیں، گانے بھی گائیں۔ بچے کی انگلیوں کو پکڑیں، آہستہ آہستہ ہر ایک انگلی کو الگ کریں، پھر دوبارہ انہیں جوڑ دیں، اور نرمی سے انہیں سہلائیں۔ *بچے کو بار بار “مُکّے مارنے” کی ترغیب دیں، تاکہ اس کے ہاتھوں اور آنکھوں کے درمیان تعاون قائم ہو، اور وہ چیزوں کو چھو سکے اور پکڑ سکے۔ ۳- کھلونے کو بچے کی ہتھیلی میں رکھ دیں، تاکہ بچہ اس کھلونے کو پکڑ سکے۔ ماں بچے کی چھوٹی ہتھیلیوں کو پکڑ کر انہیں ہلائے، تاکہ سنا جا سکے کہ کھلونے سے کیا آوازیں نکلتی ہیں۔ کھیل کے دوران بچہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں کو کنٹرول کرنا اور استعمال کرنا سیکھتا ہے۔ نوٹ: صحیح گرفت کا طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھا اور باقی چار انگلیاں ایک دوسرے کے مقابلے میں رہیں۔ مناسب کھلونے منتخب کریں۔ بچوں کی ہتھیلی کے سائز کے، آواز پیدا کرنے والے، اور نرم مواد سے بنے کھلونے۔
میں نے ایسا کبھی نہیں کیا، لگتا ہے کہ یہ تو قدرتی عمل ہے؛ آہستہ آہستہ سیکھ جائے گا۔