Thread Content
اپریل کے موسم میں، آسمان سے ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے۔ اگرچہ پھول سرخ ہو چکے ہیں، لیکن فضا میں اب بھی ٹھنڈی نمی موجود ہے۔ ایک تنہا شخص، نئی قبر کے سامنے کھڑا تھا۔ وو بنگ نے تھیلے سے شراب کی بوتلیں نکالیں، قبر کے سامنے دو پیالے رکھے، اور آہستہ آہستہ ان پیالوں میں شراب ڈالنے لگا۔ “اے بوڑھے لیو، میں یہ پیالہ تمہارے نام کرتا ہوں۔ ہم دونوں نے اتنے سالوں تک ایک ہی جگہ کام کیا، ایک ہی کمرے میں رہے، ایک ہی برتن سے کھانا کھایا… تم کیسے اچانک چلے گئے؟“ وو بنگ نے اپنے ہاتھ میں موجود شراب کو ایک ہی گھونٹ میں پی لیا، اور دوسرا پیالہ قبر کے سامنے گرا دیا۔ تین دن پہلے، وو بنگ اور لاؤ لیو مل کر تعمیراتی سائٹ کی ساتویں منزل پر لکڑی کے تختے منتقل کر رہے تھے۔ زمین سے باہر نکلی ہوئی ایک سٹیل کی سلاخ نے وو بنگ کو گرنے سے بچایا، لیکن اس واقعے سے وہ بہت ڈر گیا۔ جب وہ بوڑھے لیو کو یاد دلانے ہی والا تھا، اسی وقت اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ “وو بنگ، جلدی گھر واپس آؤ، بچے کا بخار کم نہیں ہورہا، وہ اب ہسپتال میں ہے!” وو بنگ نے اپنا کام چھوڑ دیا، اور جلدی سے نیچے اتر کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اسی رات، وو بنگ کو اپنے ساتھی کا فون آیا، جس نے بتایا کہ لاؤ لیو لکڑیاں منتقل کرتے وقت، زمین سے باہر نکلی ہوئی سٹیل کی تار سے ٹکرا گیا، اور سیدھا ساتویں منزل کی بالکنی سے نیچے گر پڑا… “لاؤ لیو، یہ سب میری غلطی ہے؛ میں نے تمہیں بروقت خبردار نہیں کیا، میں ہی تمہارا قصوروار ہوں…” وو بنگ نے پھر ایک گلاس شراب پیا، اور افسوس سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اکثر، ایک چھوٹی سی یاد دہانی سے ہی کسی حادثے کو روکا جا سکتا ہے۔
ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی غفلت بھی ناقابلِ تلافی تباہی کا سبب بن سکتی ہے…
خطرناک صورتحالوں کی فوری رپورٹ کرنا اور انہیں دور کرنا، وہاں موجود افراد کی ذمہ داری ہے۔