چینی لوگ گاڑیاں کیوں تبدیل کرنا پسند نہیں کرتے؟
Thread Content
اس پوسٹ کو آخری بار cflt111 نے 4 اگست 2016ء کو صبح 9:29 بجے ایڈٹ کیا تھا۔چینی لوگ کیوں اپنی گاڑیاں تبدیل کرنا نہیں چاہتے؟
میرے دوست کا کہنا ہے کہ میری گاڑی کرائے پر لی گئی ہے؛ کرایہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے کرایہ دینے والی کمپنی کو واپس کرنا ہی پڑتا ہے۔ استعمال شدہ گاڑیوں کا انتظام بھی کرایہ دینے والی کمپنی ہی کرتی ہے؛ لہذا گاڑی کے مالک کے لئے یہ بہت آسان ہے!
ہاں، منطقی بات ہے… لیکن سوال یہ ہے کہ کرائے پر لی گئی گاڑی سے فائدہ کیسے ہوتا ہے؟ میرے دوست کا کہنا ہے کہ فائدہ صرف معاشی اعتبار سے ہی نہیں، بلکہ اس سے ایک ذہنی سکون بھی حاصل ہوتا ہے۔ اپنی گاڑی خریدنے سے گاڑی کی قیمت میں کمی کے علاوہ مالی دباؤ بھی پڑتا ہے؛ گاڑی کے استعمال اور اس کے انتظام سے متعلق بھی کئی مشکلات ہوتی ہیں۔ لیکن کرائے پر لی گئی گاڑی سے یہ تمام مشکلات آسانی سے حل ہو جاتی ہیں۔ اوہ، ایسا ہی ہے! ماہرین کے مطابق، چینی لوگوں کے “مالیت سے متعلق تصورات” کی وجہ سے، زیادہ تر لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس گاڑی کی ملکیت ہو، نہ کہ صرف اس کا استعمال کرنے کا حق۔ اگر دس سال پہلے یہ رائے درست تھی، تو اب 70 کی دہائی، 80 کی دہائی، اور یہاں تک کہ 90 کی دہائی میں پیدا ہونے والے لوگ بھی گاڑیاں خریدنے لگے ہیں۔ ان کے خرچ کرنے کے طریقوں میں بھی بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ لہذا، ہمیں “آسانی” اور “معقول قیمت” کے پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے؛ میرے خیال میں یہ دونوں پہلو “انسانی فطرت” کے مطابق ہیں۔ ہمارے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں جو مشکلات ہیں، ان کے بارے میں تو سبھی لوگ جانتے ہیں، لہذا ان کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یہ جاننا ہے کہ آخر کیوں امریکہ میں یہ عمل زیادہ آسان اور معقول قیمت پر ہوتا ہے۔