Thread Content
حالیہ برسوں میں، ہمارے ملک کی معاشی ترقی رفتہ رفتہ تیز ہوتی جارہی ہے؛ دیہاتوں کی معاشی ترقی کی رفتار بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مختلف قسم کی فیکٹریاں نئے دیہاتوں کی تعمیر اور پیداوار کے لئے استعمال ہورہی ہیں، اور مختلف قسم کے پالنے کے منصوبے بھی صنعتی سطح پر پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔ لیکن، پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور معیشت کی ترقی کے ساتھ، دیہاتی علاقوں کا ماحول بھی مسلسل خراب ہوتا جارہا ہے، خاص طور پر پانی کے ماحول کے لحاظ سے یہ مسئلہ بہت شدید ہے۔ اور اب دیہاتوں میں زندگی کا معیار بھی مسلسل بہتر ہو رہا ہے، لیکن زندگی کے دوران پیدا ہونے والے فضلے کی مقدار بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ فضلہ بکھرے ہوئے طور پر خارج ہوتا ہے، اور اس کی صفائی کرنا بہت مشکل ہے۔ عام طور پر دیہاتوں میں فضلے کی آلودگی کی سطح کم ہوتی ہے، لیکن پھر بھی اس کی صفائی کرنا مشکل ہی ہے۔ دیہاتوں میں فضلہ پانی کی صفائی مناسب طریقے سے نہیں ہو رہی، جس کی وجہ سے دیہاتیوں اور قصبوں کے باشندوں کی زندگیوں میں بہت پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے دیہاتوں میں پانی کے ماحول سے متعلق چند خصوصیات یہ ہیں: پہلی بات یہ کہ یہاں فضلہ پانی کو جمع کرنے اور اسے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے کوئی انتظامات موجود نہیں ہیں۔ زندگی کے دوران پیدا ہونے والے فضلہ پانی کو زیادہ تر بغیر کسی علاج کے ہی خارج کر دیا جاتا ہے، اور یہ پانی مختلف جگہوں سے خارج ہوتا ہے۔ کپڑے دھونے کا پانی، نہانے کا پانی، سبزیاں دھونے کا پانی، صفائی کے لئے استعمال ہونے والا پانی وغیرہ بھی براہِ راست ہی خارج کر دیا جاتا ہے۔ اس سے فضلہ پانی کی صفائی میں بہت پریشانی ہوتی ہے۔ دوسرا: فضلہ پانی پیدا ہونے کے طریقے بہت ہیں، مختلف قسم کے فضلہ پانیوں کی کثافت الگ الگ ہوتی ہے، اور اس میں مختلف قسم کے غیرخالص مواد بھی موجود ہوتے ہیں؛ لہذا اس کی صفائی کرنا بہت مشکل ہ فضلہ پانیوں میں بنیادی طور پر کپڑے دھونے کا پانی، باورچی خانے سے نکلنے والا پانی، شاور سے نکلنے والا پانی، مختلف قسم کے جانوروں اور انسانوں کا فضلہ اور پیشاب، فارموں سے نکلنے والا صاف کرنے والا پانی (جسے سنبھالنا کافی مشکل ہے، کیوں کہ مختلف فارموں میں استعمال ہونے والے چارے میں مختلف عناصر موجود ہوتے ہیں) وغیرہ شامل ہیں۔ فضلہ پانیوں کے ذرائع بہت زیادہ ہیں، اور ان کی اقسام بھی مختلف ہیں؛ پانی میں موجود غیرخالص مواد کی اقسام اور ان کی مقدار بھی مختلف ہے، جس کی وجہ سے فضلہ پانی کو صاف کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ تیسرا: پیدا ہونے والے فضلہ کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اب زندگی کے حالات بہتر ہو گئے ہیں، تقریباً ہر گھر میں پانی کی سہولت موجود ہے؛ نہانے کے لئے سولر انرجی اور ہیٹر استعمال کئے جاتے ہیں۔ پانی کا استعمال آسان ہو گیا ہے، لہذا پانی کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ پانی کی ضرورت بڑھنے کی وجہ سے فضلہ پانی کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے، اور یہ بات دیہاتوں میں فضلہ پانی کی صفائی کے لئے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ چوتھا: دیہاتوں میں فضلہ پانی کی صفائی کی شرح بہت کم ہے۔ چونکہ دیہاتوں میں فضلہ پانی بکھرا ہوا ہوتا ہے، اسے جمع کرنا مشکل ہوتا ہے، نیز فضلہ پانی کی کثافت اور غیرخالصیتوں میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے، لہذا شہروں میں استعمال ہونے والی جدید فضلہ پانی کی صفائی کی تکنیکیں دیہاتوں میں استعمال کرنے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ قدرتی طریقے بھی فضلہ پانی کی صفائی کے لئے کافی نہیں ہوتے، یا ان کے نفاذ کے لئے ضروری وسائل (جیسے زمینی وسائل) موجود نہیں ہوتے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بکھرے ہوئے قصبوں میں فضلہ پانی کی صفائی کا نظام استعمال کیا جاتا ہے، لیکن فضلہ پانی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، اور اس کی صفائی کے اخراجات بھی کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ ہے ہمارے ملک کے دیہاتوں اور قصبوں میں فضلہ پانی کی صفائی سے متعلق موجودہ حالات۔ حالات اچھے نہیں ہیں، لیکن پانی کی صفائی سے متعلق ماہرین مسلسل اس مسئلے پر تحقیق کر رہے ہیں، تاکہ جلد ہی ایک مؤثر اور کم لاگت والا طریقہ دریافت کیا جا سکے۔