آئل پمپ کے لئے مواد کا انتخاب
Thread Content
منصوبہ اول: پمپ کے جسم کے لئے 1Cr13 سٹینلیس اسٹیل استعمال کیا گیا ہے، جبکہ بہاؤ والے حصوں (وورٹیکس، پنکھے وغیرہ) کے لئے نینو ڈائمنڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ تیار کیے گئے پرت کی موٹائی 0.3 ملی میٹر سے 3 ملی میٹر تک ہو سکتی ہے، جبکہ اس پرت کی سختی 45 سے 65 HRC تک ہوتی ہے۔ اس طریقہ سے تیار کردہ پمپ میں خوردبینی سطحوں پر بھی مضبوط پرتیں تشکیل پاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ پمپ زنگ لگنے، صفائی کے عمل سے متاثر ہونے، اور اعلی درجہ حرارت (600 ڈگری سیلسیس) کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس عمل میں تمام پرزوں کو سپرے میں ڈال کر پھر انہیں بھٹی میں گرم کیا جاتا ہے، تاکہ تمام بہاؤ والے حصوں پر مطلوبہ پرتیں تشکیل پا سکیں۔ توقع ہے کہ اس کی عمر، معمولی لائننگ والے پمپوں کی عمر سے 3 سے 5 گنا زیادہ ہوگی۔ جہاں پمپ کے میڈیم میں کیٹالسٹ کے ذرات موجود ہوتے ہیں، وہاں مواد کی مزاحمتِ خوردگی اور تحملِ صدمے کی صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، “نینو-پینیٹریشن ڈائمنڈ” ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پمپ کے مواد کے طور پر مکمل طور پر 1Cr13 اسٹیل کا استعمال کیا جائے، جبکہ بہاؤ والے حصوں (وارم ہاؤس، پمپ کے پنکھ) میں سوپر سونک فلیم اسپرے ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹنگسٹن کاربائیڈ لگایا جائے۔ اس طریقے سے مواد کی مزاحمتِ خوردگی کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، اور اس کی عمر تقریباً 6 سال ہوتی ہے؛ 6 سال بعد اس پر دوبارہ اسپرے کیا جاسکتا ہے۔ منصوبہ نمبر تین: آئل پمپ کے اہم اجزاء کے مواد
بیرونی خول: ZG1Cr13Ni
اندرونی خول: KmTBCr15
پنکھے: KmTBCr15
محور: 4Cr144mO
آپ لوگوں کے خیال میں، ان تینوں منصوبوں میں سے کون سا منصوبہ بہتر ہے؟