Thread Content
قومی دن آ گیا۔ ہمارے پاس تو بالکل ہی چھٹیاں نہیں ہیں۔ ہر روز ڈیوٹی پر رہنا پڑتا ہے، دور دراز علاقوں میں رہنا پڑتا ہے، گھر واپس جانا بھی ممکن نہیں نجی کمپنیوں کے پاس، کام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ۔
جواب دینے کے بعد تبصرہ نہ کرنا، یہ ایک اچھی خصلت ہے ۔ ۔ اگر ملازمین کو برخواست کیا جائے، تو لیبر قانون کے مطابق دوگنا معاوضہ دینا پڑتا ہے، یہ تو صرف خواب ہی ہے۔ ۔ ۔
نجی کمپنیوں میں تو ملازمین کو برخواست نہیں کیا جاتا، بلکہ لوگوں سے خود ہی استعفیٰ دینے کو کہا جاتا ہے:’(اگر راضی نہ ہوں تو ان کی جگہ کسی اور کو رکھ دیا
افسوس، ابھی تو مقدمہ دائر کرنے کی ہمت بھی نہیں ۔ ۔
ملازمین کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی کمپنی کے خلاف عدالت میں جیت سکیں۔ میری پچھلی کمپنی میں قانونی شعبہ بھی موجود تھا… لیکن کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا، کیوں کہ سزا دی جاسکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں، ہمیشہ کوئی فتح حاصل کرنے والا ہی ہوتا ہ
چھٹیاں نہیں ہیں؟ کیا اوور ٹائم کی ادائیگی ہوتی ہے؟ سرکاری پیداواری اداروں میں بھی تو ڈیوٹیاں ہوتی ہیں ن
سال بھر میں صرف پانچ ہی ایسے مواقع آتے ہیں جب سالانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔
:'کتنی حسد ہے، اور سالانہ چھٹیاں بھی ملتی ہیں۔
جی ہاں، آپ کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، نہ ہی آپ کو کوئی بونس دیا جائے گا؛ بلکہ روزانہ آپ کو پریشان کیا جائے گا۔ آخر کار تم خود ہی برداشت نہ کر سکے، اور چلے گئے۔
:ہم سب کمزور طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، افسوس!
ہاں۔ ہر روز تمہاری باری ہوگی۔ یہی تو باری باری ڈیوٹی انجام دینے کا طریقہ ہ
ہاں۔ صفر امکان والے واقعات، ناممکن واقعات کے برابر نہیں ہوتے۔
نہیں۔ چھٹیاں بھی نہیں ہیں۔ لوگوں کی تعداد کم ہے، اگر چھٹیاں دی جائیں تو کام ہی نہیں ہو سکے گا۔