Thread Content
کیس کی تفصیلات: ایک ڈاکیہ، جس کا نام ‘الف’ ہے، اپنی کمپنی کے حکم پر کسی صارف کے گھر خط پہنچانے گیا۔ وہاں اسے صارف کے گھر موجود بھیڑیے جیسے کتے سے خوف زدہ ہونا پڑا، جس کی وجہ سے وہ بے حس ہو گیا۔ بعد میں ڈاکٹروں نے اسے شیزوفرینیا کا مریض قرار دیا، اور اس بیماری کی وجہ بھی وہی خوف تھا۔ اب الف کے والدین لیبر ڈپارٹمنٹ سے درخواست کر رہے ہیں کہ اسے کام کے دوران ہونے والے نقصان کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ ایسی صورت میں اسے کس طرح تسلیم کیا جائے؟ تجزیہ: ماہرین کی بحث و مشورے کی بنیاد پر، اسے کام سے متعلق چوٹ نہیں سمجھا جاتا۔ خاص طور پر، ان جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے کیے گئے مطالعات سے پتہ چلا کہ شیزوفرینیا کے خطرے میں، والدین کی جانب سے منتقل ہونے والے جین ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں، نہ کہ ماحولیاتی عوامل۔ عام طور پر، عام لوگ ایسے خوف کا شکار ہونے سے کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر نفسیاتی بیماری، دماغ کو پہنچنے والے نقصان یا بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ یہ شرائط بھی پوری ہوتی ہیں جو کام کے دوران پیش آنے والے حادثات کی تشخیص کے لئے ضروری ہیں، تو اسے کام کے دوران پیش آنے والا حادثہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔ نتیجہ: اسے کام کے دوران ہونے والا حادثہ نہیں سمجھا جاسکت ;
ہاں، میرے خیال میں بھی اسے کام کے دوران ہونے والی چوٹ نہیں سمجھا جاسکتا، لیکن پھر بھی معاوضہ تو دینا ہی پڑے گا۔
یہ کہنا مشکل ہے، کوئی وجہ نہ ہو تو شاید نفسیاتی بیماری پیدا ہی نہ ہو۔
سیکھ لیا، سمجھا کہ اب ٹھیک ہے، بہرحال ماحولیاتی عوامل بھی بیماری کے سبب بنتے ہیں۔
یہ مثال بہت اچھی ہے، سیکھنے کے لئے بہترین ہے….